السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ولاية ابن العم وإذا كان هو وليا فابن الأخ ثم العم أولى أن يكون وليا باب: چچا زاد بھائی کی ولایت کا بیان، اور جب وہ ولی بن سکتا ہے تو بھتیجا اور پھر چچا ولی بننے کے بدرجہ اولیٰ حق دار ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا {وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي، لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ، وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} [النساء: ١٢٧] قَالَتْ: " هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، هُوَ وَلِيُّهَا ⦗٢١٢⦘ لَعَلَّهَا تَكُونُ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ، وَهُوَ أَوْلَى بِهَا، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَنْكِحَهَا، وَيَعْضِلُهَا لِمَا لَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا غَيْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى عَنْ وَكِيعٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور جو یتیم بچیوں کے بارے میں تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے کہ وہ یتیم بچیاں تم ان کو ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ یتیم بچی ایک آدمی کی کفالت میں تھی، وہ اس کا ولی تھا، شاید کہ وہ اس کے مال میں بھی حصہ دار تھا اور وہ اس کے مال کی چاہت رکھتا تھا لیکن اس سے نکاح کی رغبت نہ رکھتا تھا اور اس کے مال کی وجہ سے کسی دوسرے سے اس کا نکاح بھی نہ کر رہی تھی کہیں دوسرا اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے۔