السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: من خلع خفيه بعدما مسح عليهما باب: اس شخص کا بیان جس نے مسح کرنے کے بعد اپنے موزے اتار دیے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ رِجْلَيْهِ الْخُفَّيْنِ طَاهِرَتَيْنِ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ نَزَعَهُمَا أَيَغْسِلُهُمَا أَمْ يَسْتَأْنِفُ وُضُوءَهُ؟ قَالَ: بَلْ يَسْتَأْنِفُ وُضُوءَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُرْوَى عَنْ مَكْحُولٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَحَدَّثَنَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ أَبِي حَنِيفَةَ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى عَلَى تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ وَقَدْ مَضَتِ الْآثَارُ فِيهِ فِي بَابِهِ وَرَوَيْنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي رَجُلٍ دَخَلَ خُفَّهُ حَصَاةٌ قَالَ: يَتَوَضَّأُ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ يَنْزِعُ خُفَّهُ لِإِخْرَاجِ الْحَصَاةِ وَيَتَوَضَّأُ.(الف) امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس نے وضو کیا اور باوضو ہو کر موزے پہنے، پھر بے وضو ہو گیا اور ان پر مسح کیا، پھر ان کو اتار دیا، کیا وہ پاؤں دھوئے گا یا نیا وضو کرے گا؟ انہوں نے کہا: بلکہ نیا وضو کرے گا۔ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ سے اس کے معنی میں روایت منقول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی کتاب میں الگ الگ وضو بیان کیا گیا ہے۔ یہ آثار پچھلے باب میں گزر چکے ہیں۔ (ج) امام شعبی رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق منقول ہے جس کے موزے میں کنکر داخل ہو جائے کہ وہ وضو کرے گا۔ ان کی مراد یہ ہے کہ وہ کنکر نکالنے کے لیے موزے اتارے گا تو وضو دوبارہ کرے گا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ»