السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب اجتماع الولاة، وأولاهم، وتفرقهم، وتزويج المغلوبين على عقولهم والصبيان وغير ذلك -- باب: لا ولاية لأحد مع أب باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اولیاء کے جمع ہونے، ان میں ولایت کے سب سے زیادہ حق دار ہونے، ان کے باہمی اختلاف، ان لوگوں کے نکاح کرانے جن کی عقل زائل ہو چکی ہو، بچوں کے نکاح کرانے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: اس بیان میں کہ باپ کی موجودگی میں کسی اور شخص کو ولایت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَمَّا مَاتَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: " وَمَنْ؟ " قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ: " وَمَنِ الْبِكْرُ وَمَنِ الثَّيِّبُ؟ " قَالَتْ: أَمَّا الْبِكْرُ فَابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَّا الثَّيِّبُ فَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ، وَاتَّبَعَتْكَ قَالَ: " فَاذْكُرِيهِمَا لِي " قَالَتْ: فَأَتَتْ أُمَّ رُومَانَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ عَائِشَةَ قَالَتْ: انْتَظِرِي فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ آتٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَوَ تَصْلُحُ لَهُ وَهِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَخُوهُ وَهُوَ أَخِي وَابْنَتُهُ تَصْلُحُ لِي " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُولِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَأْتِ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُلِّكَهَا قَالَتْ خَوْلَةُ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى سَوْدَةَ وَأَبُوهَا شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ جَلَسَ عَنِ الْمَوَاسِمِ، فَحَيَّيْتُهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْتُ: أَنْعِمْ صَبَاحًا قَالَ: " مَنْ أَنْتِ؟ " قُلْتُ: خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَتْ: فَرَحَّبَ بِي وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ: قَالَتْ: قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَذْكُرُ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، فَقَالَ: كُفُوٌ كَرِيمٌ، مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ تُحِبُّ قَالَ: فَقُولِي لَهُ فَلْيَأْتِ قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُلِّكَهَا. وَقَدِمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَجَعَلَ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہ کریں گے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس سے؟“ کہنے لگی: کنواری سے چاہو یا بیوہ سے! آپ ﷺ نے پوچھا: ”کنواری کون؟ اور بیوہ کون؟“ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگی کہ کنواری تو عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہما) جو اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب بیٹی ہے اور بیوہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جس نے ایمان قبول کرنے کے بعد آپ کی پیروی بھی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس میرا تذکرہ کرنا۔“ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: اے ام رومان! اللہ نے تمہارے گھر میں خیر و برکت کو داخل کر دیا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کیا؟ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ذرا انتظار کرو، ابوبکر ابھی آجاتے ہیں۔ اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے تو ام رومان رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا یہ ان کے لیے درست ہے؟ یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے۔ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کا بھائی اور وہ میرے بھائی، لیکن اس کی بیٹی سے نکاح درست ہے۔“ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے کہیں کہ آپ آ جائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آ کر نکاح کر لیا۔ پھر سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ ان کے والد بوڑھے آدمی تھے، وہ کام کاج سے فارغ بیٹھے تھے۔ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے جاہلیت والا سلام کہا تو انہوں نے کہا: تو اچھی صبح کرے۔ وہ کہنے لگے: آپ کون؟ میں نے کہا: خولہ بنت حکیم، تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہا: جو اللہ چاہے کہو۔ کہتی ہیں: میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب (ﷺ) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتے ہیں (یعنی نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں) وہ کہنے لگے: اچھا کفو ہے، آپ اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! وہ پسند کرتی ہیں۔ کہنے لگے: جاؤ ان سے کہہ دینا آ جائیں۔ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا، جب عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ آیا تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنا شروع کر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا ہے۔ باقی حدیث کو بھی اس نے ذکر کیا ہے۔