السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح، إلا بشاهدين عدلين باب: اس فرمان کا بیان کہ ”دو عادل گواہوں کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“۔
حدیث نمبر: 13721
قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا رَوَاهُ هَكَذَا عَبْدَ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجُوزُ نِكَاحٌ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
شیخ فرماتے ہیں: اسے اس طرح صرف عبداللہ بن محرر نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے اور انہوں نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح جائز نہیں۔“
عبداللہ بن محرر متروک ہے، اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے، قتادہ سے، حسن سے، عمران سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے، نبی ﷺ سے (مروی ہے)، اور یہ کچھ بھی نہیں۔ اور یہ ایک دوسری سند سے موصولاً مرفوعاً بھی مروی ہے۔