السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: : إذن البكر الصمت وإذن الثيب الكلام باب: فرمانِ نبوی ﷺ ”کنواری لڑکی کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور شوہر دیدہ عورت کی اجازت اس کا بولنا ہے“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13709
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ ⦗٢٠٠⦘ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ، حَدَّثَهُمْ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ قَالَ: كَانَ " إِذَا خُطِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَتَى إِلَى الْخِدْرِ فَقَالَ: " إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةَ "، فَإِنْ حَرَّكَتْهُ لَمْ يُنْكِحْهَا وَإِنْ لَمْ تُحَرِّكْهُ أَنْكَحَهَا " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
مہاجر بن عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کی کسی بیٹی کے بارے میں نکاح کا پیغام آتا تو آپ ﷺ پردے کے پاس آتے اور فرماتے: ”فلاں (مرد) فلاں (عورت) کو نکاح کا پیغام دے رہا ہے۔“ اگر وہ پردے کو حرکت دیتی تو آپ ﷺ اس کا نکاح نہ کرتے اور اگر حرکت نہ دیتی تو آپ ﷺ اس کا نکاح کر دیتے۔