السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: : إذن البكر الصمت وإذن الثيب الكلام باب: فرمانِ نبوی ﷺ ”کنواری لڑکی کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور شوہر دیدہ عورت کی اجازت اس کا بولنا ہے“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13708
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَنْبَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ عِنْدَ خِدْرِهَا، فَقَالَ: " إِنَّ فُلَانًا يُرِيدُ فُلَانَةَ ".حافظ ثناء اللہ
مہاجر بن عکرمہ مخزومی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی بیٹیوں میں سے کسی کا نکاح کرنے کا ارادہ فرماتے تو اس کے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: ”فلاں (مرد) فلاں (عورت) کا ارادہ رکھتا ہے۔“