السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: : إذن البكر الصمت وإذن الثيب الكلام باب: فرمانِ نبوی ﷺ ”کنواری لڑکی کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور شوہر دیدہ عورت کی اجازت اس کا بولنا ہے“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13700
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " قَالُوا: كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: " أَنْ تَسْكُتَ " ⦗١٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شَيْبَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شادی شدہ کا نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے مشورہ کر لیا جائے اور کنواری سے نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے اجازت مانگی جائے“، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خاموشی اس کی اجازت ہے۔“