السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: : إذن البكر الصمت وإذن الثيب الكلام باب: فرمانِ نبوی ﷺ ”کنواری لڑکی کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور شوہر دیدہ عورت کی اجازت اس کا بولنا ہے“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13699
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ح قَالَ: وَأنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ أَبِي قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ "، قَالُوا: كَيْفَ إِذْنُهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " الصُّمُوتُ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”شادی شدہ سے نکاح نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اس سے مشورہ کر لیا جائے اور کنواری سے نکاح نہ کیا جائے، حتیٰ کہ اس سے اجازت طلب کر لی جائے“، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اس کی اجازت کیسے ہوگی، اے اللہ کے نبی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خاموشی اس کی اجازت ہے۔“