السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعُبَيْدُ بْنُ ⦗١٩١⦘ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ كَهْمَسُ الْقَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِهَا خَسِيسَتَهُ، وَإِنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اقْعُدِي حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِيهَا، فَلَمَّا جَاءَ أَبُوهَا جَعَلَ أَمْرَهَا إِلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ جُعِلَ إِلَيْهَا قَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ وَالِدِي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لَا " وَهَذَا مُرْسَلٌ، ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہا: ”میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کیا ہے تاکہ اس کی وجہ سے وہ سر بلندی حاصل کرے اور میں اس کو ناپسند کرتی ہوں“، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تو بیٹھ جا یہاں تک کہ نبی ﷺ آجائیں تو ان کو بتانا۔“ جب نبی ﷺ آئے تو اس نے آپ ﷺ سے ذکر کیا، آپ ﷺ نے اس کے باپ کی طرف پیغام بھیجا، جب اس کا باپ آگیا تو آپ ﷺ نے اس کی مرضی کے مطابق حکم دے دیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ اس کی مرضی کے مطابق بھی حکم ہو سکتا ہے تو اس نے کہا: ”جو میرے باپ نے نکاح کر دیا ہے وہ ٹھیک ہے، میں تو صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا عورت کا بھی کوئی حق ہے یا نہیں ہے؟“