السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13675
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ قَالَ: الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ، وَقَوْلُ شُعَيْبٍ وَهْمٌ، وَذَكَرَهُ الْأَثْرَمُ، لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَلَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ، فَكَأَنَّهُ كَانَ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ كُفْوٍ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اور شعیب کی روایت وہم ہے۔ اثرم نے اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا۔ یہ ایک اور ضعیف طریق سے ابوالزبیر عن جابر بھی روایت کی گئی ہے اور وہ مشہور نہیں ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا اس نے اس کا نکاح غیر کفو میں کیا تھا تو نبی ﷺ نے اسے ایسی صورت میں اختیار دیا۔