السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13673
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ " رَجُلًا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ بِكْرٌ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا " هَذَا وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ: عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَغَيْرُهُمَا عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی کنواری بیٹی کی شادی اس کی رضامندی کے خلاف کر دی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔
یہ وہم ہے، درست یہ ہے کہ یہ اوزاعی عن ابراہیم بن مرہ عن عطاء عن النبی ﷺ مرسل ہے، اسی طرح ابن مبارک، عیسیٰ بن یونس اور دیگر نے اوزاعی سے روایت کیا ہے۔