السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13672
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: هَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ، وَهِمَ فِيهِ الذِّمَارِيُّ عَلَى الثَّوْرِيِّ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ ⦗١٩٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ فِي جَامِعِ الثَّوْرِيِّ عَنِ الثَّوْرِيِّ، كَمَا ذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَامَّةُ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ الثَّوْرِيِّ عَنْ هِشَامٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَخْطَأَ فِِيهِ الرَّاوِي.حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم ہے، درست یہ ہے کہ یہ یحییٰ عن مہاجر بن عکرمہ مرسل ہے۔ ذماری کو اس میں ثوری سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
یہ ثوری کی جامع میں ثوری سے مرسل ہی ہے، جیسا کہ ابوالحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، اور ان کے اکثر شاگردوں نے بھی ان سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری کے علاوہ دوسروں نے بھی ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ایک اور طریق سے بھی روایت کی گئی ہے جس میں راوی نے غلطی کی ہے۔