حدیث نمبر: 13590
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ أَمْرٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”اسی پر اکتفا کرو جو میں نے تمہارے درمیان چھوڑا ہے، بے شک جو تم سے پہلے لوگ تھے وہ سوال کی کثرت کی وجہ سے اور انبیاء کرام سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز کا میں حکم دوں اس کام کو کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جس سے منع کروں اس سے رک جایا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13590
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 7288۔ مسلم 1337»