السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما على الأولياء وإنكاح الآباء البكر بغير إذنها ووجه النكاح والرجل يتزوج أمته ويجعل عتقها صداقها وغير ذلك -- باب: قول الله تعالى: {وأنكحوا الأيامى منكم والصالحين من عبادكم وإمائكم} [النور: ٣٢] وأنه يحتمل أن يكون دلهم على ما فيه رشدهم بالنكاح باب: اولیاء کی ذمہ داریوں، باپوں کا کنواری بیٹی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے، نکاح کے طریقے، اور آدمی کا اپنی لونڈی سے نکاح کر کے اس کی آزادی کو اس کا حق مہر مقرر کرنے اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ”اور تم میں سے جو مرد یا عورتیں بے نکاح ہوں، اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہوں، ان کا نکاح کر دو“ [النور: 32] اور اس بات کا بیان کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نکاح کے ذریعے اس راستے کی رہنمائی فرمائی ہو جس میں ان کی بھلائی ہے۔
حدیث نمبر: 13589
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّامِغَانِيُّ بِنَيْسَابُورَ ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، وَإِنَّمَا هَذَا دَلَالَةً لَا حَتْمًا أَنْ يُسَافِرَ لِطَلَبِ صِحَّةٍ وَرِزْقٍ، قَالَ: وَيُحْتَمَلُ الْأَمْرُ بِالنِّكَاحِ حَتْمًا وَفِي كُلٍّ الْحَتْمُ مِنَ اللهِ الرُّشْدُ قَالَ: وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَى الْإِبَاحَةِ وَالدَّلَالَةِ عَلَى الرُّشْدِ حَتَّى تُوجَدَ الدَّلَالَةُ عَلَى أَنَّهُ أُرِيدَ بِالْأَمْرِ الْحَتْمُ وَمَا نَهَى الله عَنْهُ فَهُوَ مُحَرَّمٌ حَتَّى تُوجَدَ الدَّلَالَةُ عَلَيْهِ بَأَنَّ النَّهْيَ مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ التَّحْرِيمِ وَاسْتَدَلَّ هَذَا الْقَائِلُ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دلالت حتمی نہیں ہے کہ طلبِ رزق اور صحت کے لیے سفر کیا جائے، یہ ممکن ہے کہ نکاح کا حکم حتمی ہو اور جو اللہ کی طرف سے ہو اس میں بھلائی ہے۔