السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قبلة الجسد باب: جسم کو چومنے کے متعلق جو مروی ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا زَارِعٍ، فَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ، وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ، فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلْ جَبَلَكَ اللهُ عَلَيْهِمَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ " وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا زراع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ وفد عبد القیس میں شامل تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی سواریوں سے سبقت کرتے ہوئے اترے تاکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیں۔ سیدنا منذر اشج رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اپنے تھیلے کے پاس آئے تو انھوں نے (اس میں سے نکال کر) کپڑے پہنے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں، وہ «الْحِلْمُ» ”حلم“ اور «الْأَنَاةُ» ”اناۃ“ ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا مجھے وہ دونوں (اب) عطا ہوں گی یا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خصلتیں عادتاً عطا کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تجھے اللہ تعالیٰ نے وہ دونوں جبلتاً دی ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا ان دو اچھی صفات کے عطا کرنے پر شکر ادا کیا کہ وہ دونوں خصلتیں اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔