السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في معانقة الرجل الرجل، إذا لم تكن مؤدية إلى تحريك شهوة باب: مرد کا مرد سے معانقہ (گلے ملنے) کے متعلق جو مروی ہے جب کہ وہ شہوت ابھارنے کا سبب نہ بنے
حدیث نمبر: 13574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِمَاءٍ لَهُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تَوَجَّهَ الْعِرَاقَ، فَلَحِقَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِالرُّجُوعِ، فَأَبَى أَنْ يَرْجِعَ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ وَبَكَى، وَقَالَ: " أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ مِنْ قَتِيلٍ " هَكَذَا رَوَاهُ شَبَابَةُ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما پانی پر تھے، ان کو خبر ملی کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما عراق کی طرف جا رہے ہیں تو وہ ان سے ملے، لمبی حدیث ذکر کی جس میں ان کو لوٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے لوٹنے سے انکار کر دیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے گلے ملے اور رو پڑے اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُكَ اللّٰهَ مِنْ قَتِيلٍ» ”میں تجھے تیرے قتل ہونے کے ڈر سے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“