السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في معانقة الرجل الرجل، إذا لم تكن مؤدية إلى تحريك شهوة باب: مرد کا مرد سے معانقہ (گلے ملنے) کے متعلق جو مروی ہے جب کہ وہ شہوت ابھارنے کا سبب نہ بنے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا، قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذْ لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلِيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ الْحَالَةُ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ.عزہ کے ایک آدمی نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہا، جب ان کو شام کی طرف بھیجا کہ: ”میں تم سے حدیثِ رسول ﷺ کے بارے میں پوچھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر میں تجھے بتلا دوں تو کیا آپ اسے صیغہ راز میں رکھیں گے؟“ میں نے کہا: ”وہ ایسی بات نہیں ہے۔ کیا نبی ﷺ تم سے مصافحہ کرتے تھے، جب تم ان سے ملاقات کرتے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جب بھی میں آپ ﷺ کو ملا تو آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ ہی کیا ہے اور میری طرف ایک دن کسی کو بھیجا اور میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں گھر میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ ﷺ نے کسی کو میری طرف بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ چارپائی پر بیٹھے تھے، آپ ﷺ مجھ سے لپٹ گئے، یہ بہت اچھا موقع تھا، بہت اچھا تھا۔“