حدیث نمبر: 13555
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " آيَةٌ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةُ الْإِذْنِ، وَإِنِّي آمُرُ هَذِهِ جَارِيَةٌ لَهُ قَصِيرَةٌ قَائِمَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، أَنْ تَسْتَأْذِنَ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ ایک ایسی آیت ہے جس پر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے (یعنی عمل نہیں کرتے)، وہ اجازت والی آیت ہے، اگر کوئی عورت جس کا کوئی نگہبان ہے، میں اس کو اس بات کا حکم دوں گا کہ وہ میرے پاس اجازت مانگ کر آئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13555
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»