السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إبدائها زينتها لما ملكت يمينها باب: عورت کا اپنے غلاموں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13545
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ} [النور: 31].حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ﴾ ”یا ان (عورتوں) کی ملکیت میں آئے ہوئے (غلاموں) کے سامنے۔“ [سورة النور: 31]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا، لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ "، تَابَعَهُ سَلَّامُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ ثَابِتٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس غلام لے کر آئے، جو آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تحفے میں دیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر کپڑا تھا۔ جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتیں تو سر ننگا ہو جاتا، جب آپ ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: ”تجھ پر کوئی حرج نہیں کیونکہ ایک تیرا باپ ہے اور دوسرا تیرا غلام ہے۔“