حدیث نمبر: 13521
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ الْمَرْوَزِيُّ الْقَادِمُ عَلَيْنَا غَازِيًا، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدَانُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ قَالَ: فَقَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: " اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، وَبِالْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بَحْبَحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جابیہ نامی جگہ پر خطبہ دیا اور فرمایا: ”میرے صحابہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، پھر ان کے ساتھ جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کے ساتھ جو ان کے بعد ہیں، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، آدمی گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دے گا اور قسم مانگنے سے پہلے ہی قسم کھائے گا، تم میں سے جو عمدہ اور جنت میں درمیان والی جگہ چاہتا ہے تو وہ جماعت کو لازم پکڑ لے، اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ دو سے بھاگتا ہے، آدمی عورت سے خلوت نہ کرے، تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور جس شخص کو اس کی اچھائی اچھی لگے اور برائی بری لگے تو وہ مومن ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13521
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»