السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب التطهر في أوانيهم بعد الغسل إذا علم نجاسة باب: مشرکین کے برتنوں کی نجاست کا علم ہونے کی صورت میں انہیں دھونے کے بعد ان سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا نَغْزُو وَنَسِيرُ فِي أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ، فَنَحْتَاجُ إِلَى آنِيَةٍ مِنْ آنِيَتِهِمْ فَنَطْبُخُ فِيهَا فَقَالَ: " اغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ اطْبُخُوا فِيهَا وَانْتَفِعُوا بِهَا ". وَهَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مَوْصُولًا، وَقَدْ أَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، فَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَا أَسْمَاءَ فِي إِسْنَادِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہم جہاد کرتے ہیں اور مشرکوں کی زمین میں چلتے ہیں، ہم کو ان کے برتنوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہم ان میں پکاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو پانی کے ساتھ دھو لو، پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“