السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استحباب التزوج بالودود الولود باب: محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13479
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: " مَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ إِيمَانٍ بِاللهِ خَيْرًا مِنِ امْرَأَةٍ حَسَنَةِ الْخُلُقِ وَدُودٍ وَلُودٍ، وَمَا اسْتَفَادَ عَبْدٌ بَعْدَ كُفْرٍ بِاللهِ، فَاتِنَةً شَرًّا مِنِ امْرَأَةٍ حَدِيدَةِ اللِّسَانِ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ، وَاللهِ إِنَّ مِنْهُنَّ غَنَمًا لَا يُحْذَى مِنْهُ، وَإِنَّ مِنْهُنَّ غِلَالًا يُفْتَدَى مِنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بعد سب سے بہتر چیز اچھے اخلاق والی عورت ہے جو بچے جننے والی اور محبت کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کے بعد سب سے بری چیز شریر عورت ہے جو تیز زبان اور بدخلق ہو۔ اللہ کی قسم! بعض عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں جو کسی تکلیف کا باعث نہیں ہوتیں اور بعض عورتیں طوق ہوتی ہیں جن سے خلاصی ممکن نہیں۔