السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تسمية أزواج النبي صلى الله عليه وسلم وبناته وتزويجه بناته وفي ذلك دلالة على أن قوله: {أمهاتهم} باب: نبی کریم ﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور آپ کا اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنے کا بیان اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ”وہ ان کی مائیں ہیں“
حدیث نمبر: 13425
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ فَرَجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنَا " أَنَّ الْعَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ الَّتِي طَلَّقَهَا تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللهُ نِسَاءَهُ، فَنَكَحَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا وَوَلَدَتْ فِيهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ عالیہ بنت ظبیان رضی اللہ عنہا، جن کو آپ ﷺ نے طلاق دی، ان سے شادی کسی اور کے لیے حرام ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں طلاق دے دی۔ انہوں نے اپنے چچا کے بیٹے سے شادی کی اور ان سے ان کی اولاد ہوئی۔