حدیث نمبر: 13424
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ بَنِي أَبِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُمَا الْحِجَابُ: " يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِ أُمِّ شَبِيبٍ؟ " - وَأُمُّ شَبِيبٍ امْرَأَةُ الضَّحَّاكِ - وَفِي رِوَايَةِ يَعْقُوبَ، فَدَلَّ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ بَنِي أَبِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ عَلَيْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِيَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ أُخْوَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ رَهْطِ زُفَرَ بْنِ الْحَارِثِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى بِهَا بَيَاضًا، فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيِّ، وَهُمْ حُلَفَاءُ بَنِي فَزَارَةَ، فَاسْتَعَاذَتْ، فَقَالَ لَهَا: " لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ، فَالْحَقِي بِأَهْلِكِ "، فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَكَانَتْ لَهُ سُرِّيَّةٌ قُبْطِيَّةٌ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ، فَتُوُفِّيَ وَقَدْ مَلَأَ الْمَهْدَ، وَكَانَتْ لَهُ وَلِيدَةٌ يُقَالُ لَهَا رَيْحَانَةُ بِنْتُ شَمْعُونٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ بَنِي خَنَاقَةَ، وَهُمْ بَطْنٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَعْتَقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَزْعُمُونَ أَنَّهَا قَدِ احْتُجِبَتْ ".
حافظ ثناء اللہ

زوجۂ نبی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بنو ابوبکر بن کلاب کے ایک شخص ضحاک بن سفیان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں پردے کے پیچھے سن رہی تھی، کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ام شبیب کی بہن کی طرف رغبت ہے؟ ام شبیب ضحاک کی بیوی تھیں۔ یعقوب کی روایت میں ہے کہ ضحاک بن سفیان نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو بتلایا، باقی اسی طرح ذکر کیا۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر بن کلاب کے بھائی عمرو بن کلاب کے قبیلے کی ایک عورت سے نکاح فرمایا، پھر اس (کے بالوں) میں کچھ سفیدی دیکھی تو اسے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا اور نبی ﷺ نے قبیلہ بنو جون کندی کی بہن سے شادی کی، یہ بنو فزارہ کے حلیف تھے، اس نے آپ ﷺ سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے بہت بڑی ذات سے پناہ مانگ لی ہے، جا اپنے گھر چلی جا۔“ اور آپ ﷺ نے اس کو طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا۔ آپ کی ایک قبطی باندی بھی تھی جس کا نام ماریہ تھا، اس سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے، وہ پنگوڑھے میں ہی انتقال فرما گئے، اس کی بیٹی تھی، اس کا نام ریحانہ بنت شمعون تھا، اس کا تعلق اہل کتاب کے قبیلے بنی خنافہ سے تھا، یہ بنو قریظہ کی ایک شاخ تھی، اسے رسول اللہ ﷺ نے آزاد فرما دیا تھا، بعض کا گمان ہے کہ وہ رک گئی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13424
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»