السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما خص به من أن أزواجه أمهات المؤمنين، وأنه يحرم نكاحهن من بعده على جميع العالمين باب: آپ ﷺ کے ساتھ اس بات کے خاص ہونے کا بیان کہ آپ کی بیویاں امہات المومنین ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد تمام جہان والوں پر ان سے نکاح حرام ہے
حدیث نمبر: 13421
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ شِئْتِ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الْجَنَّةِ، فَلَا تَزَوَّجِي بَعْدِي، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ فِي الْجَنَّةِ لِآخِرِ أَزْوَاجِهَا فِي الدُّنْيَا، فَلِذَلِكَ " حَرَّمَ اللهُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْكَحْنَ بَعْدَهُ؛ لِأَنَّهُنَّ أَزْوَاجُهُ فِي الْجَنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا: اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو جنت میں بھی میری بیوی ہو تو میرے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرنا، کیونکہ عورت جنت میں اپنے اس آخری خاوند کی بیوی ہوگی جو دنیا میں تھا، اس لیے نبی ﷺ کی بیویوں سے نکاح کرنا حرام ہو گیا، کیونکہ وہ جنت میں بھی آپ ﷺ کی بیویاں ہوں گی۔