حدیث نمبر: 13419
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ، فَقَالَ: " يَا غُلَامُ حُكَّهَا " قَالَ: هَذَا مُصْحَفُ أَبِي فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، ⦗١١١⦘ فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يُلْهِينِي الْقُرْآنُ، وَيُلْهِيكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک بچے کے پاس سے گزرے وہ پڑھ رہا تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”اور نبی ﷺ تمہارے باپ ہیں،“ تو انہوں نے کہا: ”اے بچے! اسے مٹا دے۔“ اس نے کہا: ”یہ مصحفِ ابی (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) ہے،“ تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے (میں قرآن پڑھتا ہوں) اور تجھے بازار کا شور و غل مصروف رکھتا ہے (یعنی خرید و فروخت)۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13419