السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما خص به من أن أزواجه أمهات المؤمنين، وأنه يحرم نكاحهن من بعده على جميع العالمين باب: آپ ﷺ کے ساتھ اس بات کے خاص ہونے کا بیان کہ آپ کی بیویاں امہات المومنین ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد تمام جہان والوں پر ان سے نکاح حرام ہے
حدیث نمبر: 13419
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ، فَقَالَ: " يَا غُلَامُ حُكَّهَا " قَالَ: هَذَا مُصْحَفُ أَبِي فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، ⦗١١١⦘ فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يُلْهِينِي الْقُرْآنُ، وَيُلْهِيكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک بچے کے پاس سے گزرے وہ پڑھ رہا تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”اور نبی ﷺ تمہارے باپ ہیں،“ تو انہوں نے کہا: ”اے بچے! اسے مٹا دے۔“ اس نے کہا: ”یہ مصحفِ ابی (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) ہے،“ تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے (میں قرآن پڑھتا ہوں) اور تجھے بازار کا شور و غل مصروف رکھتا ہے (یعنی خرید و فروخت)۔“