❮
❯
حدیث نمبر: 1341
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ " قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: تجھے کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بھی علم کی تلاش میں اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: میں آپ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھنے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں اس لشکر میں تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم موزے طہارت کی حالت میں پہنیں تو ان پر مسح کریں، جب سفر میں ہوں تو تین دن اور جب مقیم ہوں تو ایک رات، اور پیشاب، قضائے حاجت اور نیند کی وجہ سے انہیں نہ اتاریں، اور انہیں صرف جنابت کی وجہ سے اتاریں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے، وہ بند نہیں ہوگا جب تک سورج اس طرف سے طلوع نہ ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1341