السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: رخصة المسح لمن لبس الخفين على الطهارة باب: باوضو حالت میں موزے پہننے والے کے لیے مسح کی رخصت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ " قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ ".زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: تجھے کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: بیشک فرشتے طالبِ علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں تاکہ طالبِ علم کی رضا مندی حاصل کریں۔ میں نے کہا: قضائے حاجت اور پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں بات کھٹک رہی ہے اور آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے سوال کروں کہ کیا آپ نے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب ہم سفر میں ہوں—یا فرمایا: مسافر ہوں—تو تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں، مگر جنابت سے (اتاریں) اور قضائے حاجت، پیشاب اور نیند سے (نہ اتاریں)۔“ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے، وہ بند نہیں ہوگا جب تک سورج اس طرف سے طلوع نہ ہو۔“