السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تركه الإنكار على من شرب بوله ودمه باب: آپ ﷺ کا اپنا پیشاب اور خون پینے والے پر انکار نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَانِي دَمَهُ، وَقَالَ: " ⦗١٠٧⦘ اذْهَبْ فَوَارِهِ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ سَبُعٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ " قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَشَرِبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا صَنَعْتَ؟ " قُلْتُ: صَنَعْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي قَالَ: " مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ شَرِبْتَهُ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " مَاذَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْكَ؟ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَزَادَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي كَانَتْ فِي ابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْ قُوَّةِ دَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَنْ سَلْمَانَ فِي شُرْبِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ دَمَهُ وَرُوِيَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّهُ شَرِبَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور فرمایا: ”اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتہ نہ چلے۔“ وہ کہتے ہیں: میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے (اس خون کا) کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ کو جو ملا ہے وہ میری امت سے کسی کو نہیں ملا۔“