السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تركه الإنكار على من شرب بوله ودمه باب: آپ ﷺ کا اپنا پیشاب اور خون پینے والے پر انکار نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13406
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ الْعَطَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ، عَنْ أُمَيْمَةَ، أُمِّهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ ثُمَّ وَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَبَالَ، فَوَضَعَ تَحْتَ سَرِيرِهِ فَجَاءَ فَأَرَادَهُ، فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَقَالَ لِامْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بَرَكَةٌ كَانَتْ تَخْدُمُهُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ جَاءَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ: " أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي كَانَ فِي هَذَا الْقَدَحِ؟ " قَالَتْ: شَرِبْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لکڑی کے بنے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کرتے، پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے، ایک دن آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور اسے چارپائی کے نیچے رکھ دیا۔ آپ ﷺ آئے اور اسے (باہر) پھینکنے کا ارادہ کیا تو پیالہ خالی تھا، آپ ﷺ نے برکہ نامی عورت سے کہا، جو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھی اور حبشہ سے آئی تھی: ”اس پیالے میں جو پیشاب تھا وہ کدھر گیا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے پی لیا تھا۔