السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: إليه ينسب أولاد بناته باب: آپ ﷺ کی بیٹیوں کی اولاد آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 13390
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَنْ وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " فَقُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ ⦗١٠١⦘ الْحَسَنُ "، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ الْحُسَيْنُ "، فَلَمَّا وُلِدَ مُحْسِنٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ مُحْسِنٌ "، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبَّرُ " لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْرَائِيلَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے“ اور جب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ حسین ہے“۔
پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ محسن ہے“، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مبشر۔“