السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: صلاة التطوع قاعدا كصلاته قائما وإن لم تكن به علة باب: آپ ﷺ کا بیٹھ کر نفل نماز پڑھنا کھڑے ہو کر پڑھنے کے برابر تھا، اگرچہ آپ کو کوئی عذر نہ ہو
حدیث نمبر: 13388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ فَأَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِيَّ عَلَى رَأْسِي فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو؟ " قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّكَ قُلْتَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، فَقَالَ: " أَجَلْ وَلَكِنْ لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی بیٹھے ہوئے نماز کا ثواب آدھا ہے“، میں اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن میں تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں۔“