السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان ينام ولا يتوضأ باب: آپ ﷺ سو جاتے اور (بیدار ہونے پر نیا) وضو نہیں فرماتے تھے
حدیث نمبر: 13387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُهُمْ: هُوَ هُوَ وَقَالَ أَوْسَطُهُمْ: هُوَ خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ: خُذُوا خَيْرَهُمْ، ⦗١٠٠⦘ فَكَانَتْ تِلْكَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوهُ لَيْلَةً أُخْرَى، فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ ہمیں معراج کی رات والی حدیث نبی ﷺ سے نقل فرما رہے تھے کہ تین بندے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آئے اور آپ ﷺ مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا: ”کیا یہ وہی ہے؟“ درمیانے نے کہا: ”یہ بہترین بندہ ہے۔“
آخری نے کہا: ”اس بہترین کو پکڑ لو“، یہ اس رات کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد میں نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے، آپ ﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔