حدیث نمبر: 1338
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ: " تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ " فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِيَ مَاءٌ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ فَضَاقَ كُمُّهَا فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْكَ أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ قَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ

(الف) حمزہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! تو پیچھے رہ، اور لوگوں سے تم چلتے رہو۔“ میرے پاس پانی تھا، رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے تو میں نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے ہاتھ دھونا شروع ہوئے، آپ ﷺ پر رومی جبہ تھا اور اس کی آستین تنگ تھی، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ نیچے سے نکالے، انہیں دھویا اور سر پر مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح کیا۔
(ب) عروہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ باوضو پہنے تھے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه النسائي 125»