السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أبيح له من أربعة أخماس الفيء وخمس خمس الفيء والغنيمة باب: آپ ﷺ کے لیے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں اور مالِ فے و مالِ غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مباح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ فِيمَا احْتَجَّ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ قَالَ: " كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وَخَيْبَرُ وَفَدَكُ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكُ، فَكَانَتْ حُبُسًا لِابْنِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ، فَجَزَّأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ جُزْئَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَجُزْءًا لِنَفَقَةِ أَهْلِهِ فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ جَعَلَهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الْخُمُسُ، فَالْآيَةُ نَاطِقَةٌ بِهِ مَعَ مَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب فیصلہ کیا تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تین قسم کے اموال تھے: بنو نضیر، خیبر اور فدک کا مال؛ بنو نضیر والا مال آفات میں استعمال کے لیے، فدک کا مال مسافروں کے لیے اور خیبر والے مال کے تین حصے کیے، دو حصے مسلمانوں کے لیے، تیسرا حصہ اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے، اگر ان کی ضرورت سے زائد ہوتا تو اسے مسلمان فقراء میں تقسیم کر دیتے۔