السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أبيح له من تزويج المرأة من غير استئمارها وإذا جاز ذلك جاز من غير استئمار وليها وجعله الله عز وجل أولى بالمؤمنين من أنفسهم باب: آپ ﷺ کے لیے عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو اس کے ولی کی اجازت کے بغیر بھی جائز ہو گیا، اور اللہ عزوجل نے آپ کو مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حقدار بنا دیا
حدیث نمبر: 13364
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: ٦]، فَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِمَوَالِيهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلَأً أَوْ ضِيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کی خیر خواہی کا دنیا اور آخرت میں زیادہ حق دار ہوں، اگر تم چاہو تو یہ پڑھو: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6]، جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جس نے کوئی بوجھ وغیرہ چھوڑا تو میں اس کی طرف سے ادا کرنے والا ہوں۔“