السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13321
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلَكٌ لَمْ يَعْرِفْهُ، فَقَالَ: " إِنَّ رَبَّكَ تَعَالَى يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا أَوْ نَبِيًّا مَلَكًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ تَوَاضَعَ قَالَ: " نَبِيًّا عَبْدًا ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف ایک فرشتہ بھیجا گیا، جس کو آپ ﷺ جانتے نہیں تھے، اس نے کہا: ”آپ نبی بندے بننا چاہتے ہیں یا نبی رسول؟“ تو جبرائیل علیہ السلام نے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی بندہ بننا چاہتا ہوں۔“