السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مِرَارًا يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اپنی انگلیوں سے بار بار اشارہ کر رہے تھے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی ﷺ اور آپ کے اہل و عیال نے تین دن سے زیادہ جَو کی روٹی کبھی بھی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے۔