السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له أن يتعلم شعرا ولا يكتب باب: جائز نہیں تھا کہ آپ شعر سیکھیں یا لکھیں
حدیث نمبر: 13294
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ مَعَنَا يَوْمَ الْأَحْزَابِ "، ثُمَّ ذَكَرَهُ ⦗٧٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: ”اے ابو عمارہ! کیا تم حنین والے دن بھاگ آئے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی ﷺ اللہ کے رسول ہیں، بیشک وہ بھاگے نہیں، لیکن لوگوں نے جلدی کی اور انہیں ہوازن اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے تیروں کا نشانہ بنا لیا اور آپ ﷺ اپنے سفید خچر کے سر کو پکڑے ہوئے کہہ رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ»
”میں نبی ہوں، یہ جھوٹی بات نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“۔