السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له أن يتعلم شعرا ولا يكتب باب: جائز نہیں تھا کہ آپ شعر سیکھیں یا لکھیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابَ شَعْرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعْرِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " اللهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقَالَ شُعْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ: وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ: وَقَالَ: إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا.براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو خندق والے دن دیکھا آپ ﷺ مٹی پھینک رہے تھے اور مٹی آپ ﷺ کے سینے کے بالوں میں چھپ رہی تھی، کیونکہ آپ ﷺ کے سینے کے بال بہت زیادہ تھے اور آپ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا
وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا
وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا
وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا» ”اے اللہ! اگر آپ نہ ہوتے تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۔
ہم پر سکینہ نازل فرما اور جنگ کے وقت ہمارے قدموں کو ثابت قدم رکھ۔
دشمنوں نے ہم سے بغاوت کی ہے، اگر وہ فتنہ چاہتے ہیں تو ہمیں انکار ہے۔“
ان کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ [صحیح۔ بخاری: ٢٨٧٣۔ مسلم: ١٠٨٣]