حدیث نمبر: 13257
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعَمٍ كَثِيرَةٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، وَأَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ فِي الظَّهْرِ لَنَاقَةً عَمْيَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَدْفَعُهَا إِلَى أَهْلِ الْبَيْتِ يَنْتَفِعُونَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ: وَهِيَ عَمْيَاءُ؟ قَالَ: يَقْطُرُونَهَا بِالْإِبِلِ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَدْتُمْ وَاللهِ أَكْلَهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنُحِرَتْ " قَالَ: وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ، فَلَا تَكُونُ فَاكِهَةٌ، وَلَا طُرَيْفَةٌ إِلَّا جَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْهَا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ قَالَ: فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنَ اللَّحْمِ فَصُنِعَ، فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَسِمُ وَسْمَيْنِ وَسْمَ جِزْيَةٍ وَوَسْمَ صَدَقَةٍ، وَبِهَذَا نَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جزیہ کے اونٹ لائے گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک اونٹنی اندھی ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ اونٹنی اہل بیت کو دے دیتے ہیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ میں نے کہا: وہ اندھی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اونٹوں کی قطار میں شامل کر لیں گے، میں نے کہا: وہ زمین سے کیسے کھائے گی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جزیہ والے مال سے ہے یا صدقہ کے مال سے؟ میں نے کہا: جزیہ کے مال سے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا (اسے) کھانے کا ارادہ ہے، تو میں نے کہا: اس پر جزیہ کی نشانی لگائی گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ ذبح کر دی گئی اور آپ کے پاس نو پلیٹیں تھیں، اس میں خوش طبعی یا ہنس مکھ والی بات نہیں (بلکہ حقیقت ہے)، ان پلیٹوں میں رکھ کر ازواجِ نبی ﷺ کو بھیجا گیا اور آخر میں سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا اور ان کے حصے میں کوئی کمی بیشی تھی تو وہ گوشت ازواجِ نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا گیا، باقی گوشت کا کھانا تیار کیا گیا اور اس میں مہاجرین و انصار کو دعوت دی گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو نشان لگاتے تھے: جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13257
درجۂ حدیث محدثین: موطا 619
تخریج حدیث «موطا 619»