السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ميسم الصدقة باب: صدقہ کے جانوروں کو داغنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعَمٍ كَثِيرَةٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، وَأَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ فِي الظَّهْرِ لَنَاقَةً عَمْيَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَدْفَعُهَا إِلَى أَهْلِ الْبَيْتِ يَنْتَفِعُونَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ: وَهِيَ عَمْيَاءُ؟ قَالَ: يَقْطُرُونَهَا بِالْإِبِلِ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَدْتُمْ وَاللهِ أَكْلَهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنُحِرَتْ " قَالَ: وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ، فَلَا تَكُونُ فَاكِهَةٌ، وَلَا طُرَيْفَةٌ إِلَّا جَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْهَا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ قَالَ: فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنَ اللَّحْمِ فَصُنِعَ، فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَسِمُ وَسْمَيْنِ وَسْمَ جِزْيَةٍ وَوَسْمَ صَدَقَةٍ، وَبِهَذَا نَقُولُ.سیدنا زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جزیہ کے اونٹ لائے گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک اونٹنی اندھی ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ اونٹنی اہل بیت کو دے دیتے ہیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ میں نے کہا: وہ اندھی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اونٹوں کی قطار میں شامل کر لیں گے، میں نے کہا: وہ زمین سے کیسے کھائے گی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جزیہ والے مال سے ہے یا صدقہ کے مال سے؟ میں نے کہا: جزیہ کے مال سے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا (اسے) کھانے کا ارادہ ہے، تو میں نے کہا: اس پر جزیہ کی نشانی لگائی گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ ذبح کر دی گئی۔ (راوی کہتے ہیں:) آپ کے پاس نو پیالے تھے، جو بھی پھل یا عمدہ چیز آتی آپ اس میں سے کچھ ان پیالوں میں رکھ کر ازواجِ نبی ﷺ کو بھیج دیتے، اور جو سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا جاتا وہ سب سے آخر میں ہوتا، اگر اس میں کوئی کمی ہوتی تو وہ سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں ہوتی۔ چنانچہ آپ نے اس اونٹنی کا گوشت ان پیالوں میں رکھ کر ازواجِ نبی ﷺ کو بھیجا، اور باقی گوشت کا کھانا تیار کروایا گیا اور اس میں مہاجرین و انصار کو دعوت دی گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو نشان لگاتے تھے: جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔