السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يخرج صدقته إلى من ظنه من أهل السهمان فبان أنه ليس من أهل السهمان باب: اس شخص کا بیان جو کسی کو مستحق سمجھ کر اپنا صدقہ دے لیکن بعد میں ظاہر ہو کہ وہ مستحقین میں سے نہیں تھا
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: خَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْلَجَنِي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَبَايَعْتُهُ أَنَا وَجَدِّي قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا كَانَتْ خُصُومَتُكَ؟ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَغْشَى الْمَسْجِدَ، فَيَتَصَدَّقُ عَلَى رِجَالٍ يَعْرِفُهُمْ، فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَمَعَهُ صُرَّةٌ فَظَنَّ أَنِّي بَعْضُ مَنْ يَعْرِفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ تَبَيَّنَ لَهُ فَأَتَانِي فَقَالَ: رُدَّهَا، فَأَبَيْتُ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَ لِيَ الصَّدَقَةَ وَقَالَ: " لَكَ أَجْرُ مَا نَوَيْتَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَظَاهِرُ هَذَا أَنَّ الْمُتَصَدِّقَ كَانَ رَجُلًا أَجْنَبِيًّا، وَاللهُ أَعْلَمُ.ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں: میں نے معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر گیا، آپ ﷺ نے میری منگنی کی اور میرا نکاح کر دیا، میں نے اور میرے دادا نے آپ ﷺ سے بیعت کی۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے انہیں کہا: آپ کا جھگڑا کیا تھا؟ فرمایا: ایک شخص مسجد میں رہتا تھا اور اپنے جاننے والے لوگوں پر صدقہ کرتا تھا، ایک رات وہ آیا اور اس کے پاس تھیلی تھی۔ اس نے گمان کیا کہ میں بھی اس کی جان پہچان والا ہوں، جب صبح ہوئی تو اسے پتہ چلا، وہ میرے پاس آیا اور کہا: وہ مجھے واپس کر۔ میں نے انکار کیا پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے تو آپ ﷺ نے میرے لیے صدقہ جائز قرار دیا اور فرمایا: ”تیرے لیے وہ ہے جو تو نے نیت کی“
شیخ فرماتے ہیں: اس سے ظاہر ہے کہ صدقہ کرنے والا اجنبی شخص تھا۔