السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: الرجل يخرج صدقته إلى من ظنه من أهل السهمان فبان أنه ليس من أهل السهمان باب: اس شخص کا بیان جو کسی کو مستحق سمجھ کر اپنا صدقہ دے لیکن بعد میں ظاہر ہو کہ وہ مستحقین میں سے نہیں تھا
حدیث نمبر: 13253
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ⦗٥٤⦘ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ السُّلَمِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ كَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ وَرَدَ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ، فَأَمَّا الْفَرْضُ فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ "، وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ لِوَلَدٍ وَلَا لِوَالِدٍ حَقٌّ فِي صَدَقَةٍ مَفْرُوضَةٍ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں، میرے والد اور میرے دادا نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی اور آپ ﷺ نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح کر دیا، میں اپنا جھگڑا آپ ﷺ کی طرف لے کر گیا کہ میرے ابا جان نے صدقہ کے کچھ دینار مسجد کے پاس ایک آدمی پر صدقہ کر دیے تو میں گیا اور واپس لے آیا اور کہا: ابا جان! اللہ کی قسم! میں نے آپ سے خیرخواہی کی ہے، میں اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کی طرف لے گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یزید! تیرے لیے وہ ہے جو تو نے نیت کی اور اے معن! تیرے لیے وہ ہے جو تو نے لے لیا۔“