السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل باسم الهدية ولا يقبل ما كان باسم الصدقات إما تحريما وإما تورعا باب: نبی کریم ﷺ ہدیہ کے نام سے دی جانے والی چیز قبول فرما لیتے تھے اور صدقہ کے نام سے دی جانے والی چیز قبول نہیں فرماتے تھے خواہ حرام ہونے کی وجہ سے یا پرہیزگاری کی بنا پر
حدیث نمبر: 13250
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالشَّيْءِ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ مَدَّ يَدَهُ، وَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " خُذُوا "، ⦗٥٣⦘ وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت بہز بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ ﷺ سوال کرتے: ”کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے؟“ اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ ﷺ اسے لے لیتے اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرماتے: ”اسے لے لو۔“