السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ⦗٤٠⦘ الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ لَهُ: انْطَلِقْ حَتَّى تَجِدَ مِنْ شَيْءٍ قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الْحِلْسُ كَانُوا يَفْتَرِشُونَ بَعْضَهُ وَيَلْبِسُونَ بَعْضَهُ، وَهَذَا الْقَدَحُ كَانُوا يَشْرَبُونَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَأْخُذُهُمَا مِنِّي بِدِرْهَمٍ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِاثْنَيْنِ، فَقَالَ: " هُمَا لَكَ " قَالَ: فَدَعَا الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ: " اشْتَرِ بِدِرْهَمٍ فَأْسًا وَبِدِرْهَمٍ طَعَامًا لِأَهْلِكَ " قَالَ: فَفَعَلَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَلَا تَدَعْ حَاجًّا وَلَا شَوْكًا وَلَا حَطَبًا وَلَا تَأْتِينِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا " قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَصَابَ عَشَرَةً قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَاشْتَرِ بِخَمْسَةٍ طَعَامًا لِأَهْلِكَ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ بَارَكَ اللهُ لِي فِيمَا أَمَرْتَنِي، فَقَالَ: " هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِكَ نُكْتَةُ الْمَسْأَلَةِ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُفْقِعٍ " قَالَ الشَّيْخُ فَإِنْ لَمْ تَقَعْ لَهُ الْكِفَايَةُ إِلَّا بِمِائَتَيْنِ أَوْ بِأُلُوفٍ أُعْطِيَ قَدْرَ أَقَلِّ الْكِفَايَةِ بِدَلِيلِ مَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَتَّى تُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ " وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور فاقہ کی شکایت کی، پھر وہ لوٹ گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں اپنے گھر سے آ رہا ہوں، مجھے امید نہیں ہے کہ میں گھر واپس جاؤں اور کوئی بندہ مرا نہ ہو۔ راوی کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کو فرمایا: ”چلو یہاں تک کہ تو کوئی چیز لے آ جو تو پائے۔“ راوی کہتا ہے کہ وہ چلے حتیٰ کہ ایک چادر اور ایک پیالہ لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اس چادر کو بعض بچھاتے اور بعض پہنتے تھے اور یہ پیالہ اس میں سے وہ پیتے تھے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے کون ایک درہم میں یہ خریدے گا؟“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس کو خریدوں گا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک درہم سے زیادہ کی کون خرید لے گا؟“ تو اس نے کہا: میں اس کو دو درہم میں خریدوں گا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری ہیں۔“ آپ ﷺ نے اس آدمی کو بلایا اور فرمایا: ”ایک درہم کا کلہاڑا خرید اور ایک درہم کا اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خرید۔“ راوی کہتا ہے کہ اس آدمی نے ایسا کیا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”اس وادی میں چلے جاؤ اور اس میں سے لکڑیاں وغیرہ کاٹو اور محنت کرو اور میرے پاس پندرہ دنوں کے بعد آنا۔“ پھر وہ چلا گیا، اس نے دس درہم پائے تو آپ ﷺ نے اس کو فرمایا: ”پانچ درہم کا اپنے اہل کے لیے کھانا اور پانچ کا کپڑا وغیرہ خریدو۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے جو آپ نے مجھے حکم دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے بہتر ہے اس سے کہ تو قیامت والے دن آئے اور تیرے چہرے پر سوال کرنے کی وجہ سے نشانات ہوں۔ بے شک سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: ہلاکت والے خون، بڑی چٹی اور بے انتہا فقر والے کے لیے۔“