حدیث نمبر: 13212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ثنا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاهُ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا قَالَ: فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَلَفَّ كِتَابَهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ، وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ تَرَى إِنِّي حَامِلٌ إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُلْتَمِسِ قَالَ: فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فِيهِ، فَقَالَ: " قَدْ كُتِبَ لَكَ بِالَّذِي أَمَرْتُ لَكَ بِهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ مِنْهَا غَنِيٌّ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ: " أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ " وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِمُخْتَلِفٍ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ مَا يُغْنِي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَجَعَلَ غِنَاهُ بِهِ، وَذَلِكَ لِأَنَّ النَّاسَ يَخْتَلِفُونَ فِي قَدْرِ كِفَايَاتِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُغْنِيهِ خَمْسُونَ دِرْهَمًا لَا يُغْنِيهِ أَقَلُّ مِنْهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ كَسْبٌ يُدِرُّ عَلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ وَلَا عِيَالَ لَهُ، فَهُوَ مُسْتَغْنٍ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما آئے، ان دونوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے ان کے سوال کے مطابق دینے کا حکم دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جو کچھ انہوں نے سوال کیا ہے، اس کو لکھ دو۔ راوی کہتے ہیں کہ اقرع رضی اللہ عنہ نے اپنے خط کو اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلا گیا اور عیینہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خط پکڑا اور نبی ﷺ کے پاس آگیا اور اس نے کہا: اے محمد ﷺ! میں یہ خط اپنی قوم کی طرف لے کر جانے والا ہوں اور میں بھی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ اس کو نبی ﷺ نے پکڑا اور اس میں دیکھا اور فرمایا: ”اس میں وہ چیز لکھی گئی ہے جس کا میں نے تیرے لیے حکم دیا تھا۔“
پھر لمبی حدیث ذکر کی اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ وہ اس چیز سے بے پروا ہے (یعنی اس کو ضرورت نہیں) تو وہ جہنم کی آگ کو اکٹھا کر رہا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! غنیٰ کیا چیز ہے کہ بعد میں سوال کی گنجائش ہی نہ رہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے سیر ہونا ہے ایک دن اور رات یا ایک رات اور دن۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13212
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»