السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب التطهر في أوانيهم بعد الغسل إذا علم نجاسة باب: مشرکین کے برتنوں کی نجاست کا علم ہونے کی صورت میں انہیں دھونے کے بعد ان سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ شَقِيقٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَخْبِرْنِي: مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْغَسْلِ قَدْ وَقَعَ عِنْدَ الْعِلْمِ بِنَجَاسَةِ آنِيَتِهِمْ.سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ اور جب میں شکار والے علاقے میں ہوتا ہوں تو اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سکھلائے ہوئے کتے کو چھوڑتا ہوں اور میرے کتے کے ساتھ غیر سکھلایا ہوا کتا بھی شامل ہو جاتا ہے، تو اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم نے اہل کتاب کے علاقے کا ذکر کیا ہے، تو ان برتنوں کے متعلق جن میں وہ کھاتے ہیں، اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ اور اگر تم ان کے علاوہ نہ پاؤ تو انہیں دھو لو اور ان میں کھا لو، اور جو تم نے شکار والے علاقے اور کمان کے ساتھ شکار کا ذکر کیا ہے، تو اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو، اور جو تم سکھلائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرو تو اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو، اور جو تم غیر سکھلائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرو اور اسے (زندہ) پا کر ذبح کر لو تو اسے کھا لو۔“