السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: سقوط سهم المؤلفة قلوبهم وترك إعطائهم عند ظهور الإسلام، والاستغناء عن التألف عليه باب: اسلام کے غلبہ اور تالیف قلب سے بے نیاز ہو جانے کے وقت مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہونے اور انہیں نہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13190
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ وَأَبَا بُرْدَةَ بِالزَّكَاةِ وَهُمَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ فَأَخَذَاهَا، ثُمَّ جِئْتُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْتُ أَبَا وَائِلٍ وَحْدَهُ، فَقَالَ: رُدَّهَا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، قُلْتُ: فَمَا أَصْنَعُ بِنَصِيبِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ قَالَ: " رُدَّهُ عَلَى آخَرِينَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابو وائل اور ابوبردہ رحمہما اللہ کے پاس زکاۃ لے کر آیا اور ان دونوں کی ذمہ داری بیت المال پر تھی اور انہوں نے اس مال کو وصول کر لیا۔ پھر میں دوسری مرتبہ جب زکاۃ لے کر آیا تو صرف ابو وائل رحمہ اللہ تھے، انہوں نے کہا کہ اس مال کو لے جاؤ اور اس کو مستحق میں تقسیم کر دو تو میں نے کہا: میں ان لوگوں کے حصے کا کیا کروں جن کو تالیفِ قلبی کے لیے دیا جاتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: اس کو دوسروں پر لوٹا دو۔