السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: من يعطى من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح خمس الفيء والغنيمة ما يتألف به وإن كان مسلما باب: مؤلفۃ القلوب (جن کی تالیف قلب مقصود ہو) میں سے اس شخص کا بیان جسے مال فے اور غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے مصالح کے حصے میں سے تالیف قلب کے لیے دیا جائے اگرچہ وہ مسلمان ہو
حدیث نمبر: 13179
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي بِالْخُمُسِ حَقُّهُ مِنَ الْخُمُسِ وَقَوْلُهُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ يَعْنِي: فِي مَصْلَحَتِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس مالِ فے میں سے میرے لیے خمس کے سوا کچھ نہیں اور خمس بھی تم ہی میں لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خمس سے مراد خمس میں سے آپ ﷺ کا حق ہے اور آپ ﷺ کے فرمان ”تم ہی میں لوٹا دیا جاتا ہے“ کا مطلب ہے: تمہاری مصلحتوں میں (خرچ کیا جاتا ہے)۔