حدیث نمبر: 13177
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَكَانَ هَمُّهُ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، فَأَحَاطَتْ بِهِ النَّاقَةُ، فَخَطِفَتْ شَجَرَةٌ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ لَوْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيَّ نَعَمًا مِثْلَ تَمْرِ تِهَامَةَ لَقَسَمْتُهَا بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذَّابًا " ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ ذِرْوَةِ سَنَامِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ: " مَالِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ، وَلَا مِثْلُ هَذِهِ، إِلَّا الْخُمُسَ، وَهُو مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ رُدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَشَنَارٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ غزوہ حنین سے واپس لوٹے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے سوال کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے (اس غرض سے) اونٹنی کو گھیر لیا، آپ کی چادر درخت نے اچک لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری چادر مجھے لوٹا دو۔ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں بخل کروں گا؟ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تہامہ (جتنا) مالِ فے دیتا تو میں تمہارے درمیان تقسیم کر دیتا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔“ پھر آپ ﷺ نے اونٹ کی کوہان سے اون لی اور فرمایا: ”مجھے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مالِ فے دے اور میں روک لوں؟ اگر اس کی مثل بھی خمس ہو تو وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، تم دھاگا اور سوئی لوٹانا فرض سمجھو اس لیے کہ خیانت عار، آگ اور رسوائی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13177
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»