السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: العامل على الصدقة يأخذ منها بقدر عمله وإن كان موسرا باب: صدقہ وصول کرنے والا اس میں سے اپنے کام کے بقدر حصہ لے گا خواہ وہ مالدار ہو
حدیث نمبر: 13167
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: رَجُلٍ عَامَلٍ عَلَيْهَا، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ رَجُلٍ مِسْكِينٍ تُصِدِّقَ عَلَيْهِ بِهَا، فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ، أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی مال دار کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے مگر پانچ بندے مستثنیٰ ہیں: (1) عامل کے لیے، (2) کسی آدمی نے اپنے مال سے صدقہ کی چیز کو خریدا، (3) کسی مسکین نے ہدیہ دیا، (4) تاوان یا چٹی والا آدمی، (5) اللہ کے رستے میں لڑنے والا۔“